I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 19

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط19

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#نبوت_کا_پانچواں_سال


جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کا مکہ میں رہنا مشکل ہوگیا ہے تو آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ ملک حبشہ کا بادشاہ اپنے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا۔
تم میں سے جو چاہیں وہاں چلے جائیں۔ چنانچہ اس سال ماہ  رجب میں اول اول گیارہ
مرداور چارعورتوں نے ہجرت کی ۔ جن میں حضرت عثان غنی  اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھیں ۔ حسن اتفاق سے جب یہ بندرگاہ پر پہنچے تو دو  تجارتی جہاز حبشہ کوجارہے تھے۔ جہاز والوں نے ان
کوسستے کرایہ پر بٹھالیا۔ قریش کو خبرلگی تو انہوں نے بندرگاہ تک تعاقب کیا۔ مگرموقع نکل چکا تھا۔
مہاجرین تقریبا تین ماہ حبشہ میں امن وامان سے ہے۔ ماہ شوال میں ان کو یہ غلط خبر پہنچی  کہ  اہل مکہ ایمان لے آئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے اکثر مکہ میں واپس آگئے ۔

#نبوت_کا_چھٹا_سال

اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا  امیر حمزہ ایمان لائے ۔ اور ان کے تین دن بعد  حضرت عمرفاروق بھی مشرف باسلام ہوئے جولوگ حبشہ سے واپس آئے
تھے قریش نے ان کو اور دوسرے مسلمانوں کو زیادہ ستانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ چنانچہ اس دفعہ ۸۳ مرداور ۱۸ عورتیں حضور علم کی اجازت سے ہجرت کرکے حبشہ چلی گئیں۔  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی بتا مہاجرین حبشہ میں سے کچھ لوگ فوراً   واپس آگئے ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب وغیرہ جو وہاں رہ گئے تھے وہ فتح خیبر کے وقت مدینہ میں واپس آئے۔ جب حضرت جعفر  آپ صلی اللہ علیہ  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے
معانقہ کیا۔ اور پیشانی کو بوسہ دے کر فرمایا میں نہیں بتا سکتا کہ فتح خیبر سے مجھے زیادہ خوشی ہے کہ  جعفر کے آنے سے“۔
حضرت ابو بکر صدیق نے بھی با ارادۂ  ہجرت حبشہ کی طرف نکلے تھے برک الغماد تک جو کہ مکہ سے یمن کی طرف پانچ دن کی راہ ہے پہنچے تھے کہ قبیلہ قارہ کا سردار ابن الدغنہ ملا۔
 اس نے پوچھا کہاں جارہے ہو ؟ آپ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ میں چاہتا ہوں کہ
کہیں الگ جا کر خدا کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا  یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ فیاض و مہمان نواز اپنوں سے نیک سلوک کرنے والے غریب پرور اور حوادث حق  میں لوگوں کا مددگار مکہ سے نکل جائے یا نکالا 
جائے۔ میں آپ کواپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اس لیے آپ ابن الدغنہ کے ساتھ مکہ میں واپس آگئے۔ جب قریش کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے مشورہ کر کے ایک سفارت بسر کردگی عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ ( یا عمارہ بن ولید ) نجاشی کی خدمت میں مع تحائف بھیجی۔ سفراء وہاں پہنچ کر پہلے بادشاہ کے بطارقہ سے ملے۔

اور نذریں پیش کر کے کہا کہ ہم میں چند نادان لوگوں نے ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جو نصرانیت و بت پرستی دونوں سے جدا ہے۔ وہ بھاگ کر یہاں پناہ گزین ہو گئےہیں۔ ہمیں اشراف قریش نے آپ کے بادشاہ کے پاس بھیجا ہے کہ ان کو واپس کر دے۔ درخواست
پیش ہونے پر آپ ہماری تائید کر دیں چنانچہ سفراء نے نجاشی کی خدمت میں حاضر ہو کر تحائف پیش
کیے۔ اور سارا قصہ بیان کیا۔ بادشاہ نے مہاجرین کو طلب کیا۔ بطارقہ نے کہا: "حضور! یہ لوگ ان کے حال سے بخوبی واقف ہیں آپ ان کے حوالہ کر دیں۔ بادشاہ نے کہا: نہیں پہلے ہم ان سے دریافت کر لیں۔ چنانچہ جب مہاجرین در بار میں حاضر ہوئے تو حضرت جعفر بن ابی طالب نے ان
کی طرف سے اس طرح تقریر شروع کی:
بادشاہ ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے۔ بتوں کو پوجتے تھے۔ مردار کھاتے تھے۔ بدکاریاں
کرتے تھے۔ اپنوں سے دشمنی رکھتے تھے۔ پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے تھے۔ قوی لوگ کمزوروں کو کھا جاتے تھے۔ ہم اس حالت میں تھے کہ الله تعالی نے ہم میں سے ایک رسول ہماری طرف بھیجا۔ جس کے نسب اور صدق و امانت اور پرہیز گاری سے ہم لوگ پہلے سے واقف تھے۔
اس نے ہم کو یہ دعوت دی کہ ہم خدا کو ایک جانیں۔ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو  شریک نہ ٹھہرائیں۔ بتوں کی پوجا جو ہم اور ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے چھوڑ دیں۔ سچ بولا کریں۔ امانت ادا کریں۔ اپنوں سے محبت وسلوک رکھیں۔ ہمسایوں سے نیک سلوک کریں ۔محارم
اور خون ریزی سے باز آئیں۔ یتیموں کا مال نہ کھائیں۔ عفیف عورتوں پر تہمت نہ لگائیں۔ نماز پڑھیں۔ صدقہ دیں۔ روزے رکھیں پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ شرک و بت پرستی چھوڑ دی۔ حرام  کوحرام اور حلال کو حلال جاننے لگے۔ اس جرم پر ہماری قوم ہم پر ٹوٹ پڑی اور اذیت دے کر مجبور کرنے لگی کہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر پھر بتوں کو پوجنے لگ
جائیں ۔ اور خبائث کو بدستور سابق حلال سمجھیں۔ جب انہوں نے ہم پرقہر و ظلم  کیا اور ہمارے فرائض مذہبی کی بجا آوری میں سد راہ ہو گئے تو ہم آپ کے ملک میں آپ کی پناہ میں آگئے ہمیں امید ہے کہ آپ کے ہاں ہم پر ظلم  نہ ہوگا۔
یہ تقریر سن  کرنجاشی نے کہا کہ تمہارے پیغمبر پر جو کلام اترا ہے اس میں سے کچھ سناؤ۔ حضرت جعفر نے سورہ  مریم کی چند  آیتیں پڑھیں۔ نباشی سن کر اتنا رویا کہ اس کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی
اور اس کے اساقفہ  بھی روئے ۔ پھر نجاشی نے کہا: " یہ  کلام اور انجیل دونوں ایک ہی چراغ کے پرتو ہیں۔ اس کے بعد سفیروں سے کہا کہ تم واپس چلے جاؤ - الله کی قسم! میں ان کو تمہارے حوالہ نہیں کروں گا۔
دوسرے دن عمرو بن العاص نے حاضر دربار ہو کر عرض کیا: حضور! یہ  لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی  نسبت برا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نجاشی نے مسلمانوں کو طلب کیا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو ان سے پوچھا
تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہو؟“ حضرت جعفر نے کہا تم اعتقاد رکھتے ہیں جیسا کہ
ہمارے پیغمبر نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  خدا کے بندے اور پیغمبر اور روح الله اورکلمتہ اللہ ہیں ۔ یہ سن  کر
نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: واللہ! جوتم نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام  اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہیں۔ جب نجاشی کی زبان سے یہ الفاظ  نکلے تو بطارقہ   حاضرین کے نتھنوں سے
خرخراہٹ کی آواز آنے لگی م گر نجاشی نے پرواہ نا کی  ۔ اور سفارت بالکل ناکام واپس آئی۔

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو