I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 18

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط18

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


ایام حج قریب تھے ولید و قریش میں یوں گفتگو ہوئی:
ولید: اے گروہ قریش حج کا موسم آگیا ہے ۔ عرب کے قبائل تمہارے پاس آئیں گے جنہوں نے تمہارے صاحب کا حال سن لیا ہے ۔ اس کے بارے میں ایک رائے پر اتفاق کرلو ۔ ایسا نا ہو تم ایک دوسرے کی تکذیب کرو۔
قریش: آپ ہی ایک رائے قائم کردیں۔ ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔
ولید: نہیں، تم کہو میں سنتا ہوں!
قریش: ہم کہیں گے کہ وہ کاہن  ہے
ولید: اللہ کی قسم وہ کاہن نہیں ہے ۔ ہم نے کاہن دیکھے ہوئے ہیں۔ اس کا کلام نہ کاہن کا زمزمہ ہے نا سجع ۔

قریش: ہم کہیں گے کہ وہ دیوانہ ہے۔
وليد: ۔ہم نے دیوانگی دیکھی ہوئی ہے۔ وہ دیوانہ کا غیظ و غضب نہیں نہ دیوانہ کا غلمان و وسوسہ ہے۔
قریش: ہم کہیں گے کہیں گے وہ شاعر ہے۔
وليد: وہ شاعر نہیں ہے ۔ ہمیں تمام اقسام شعر رجز، ہزج، قريض، مقبوض اور مبسوط معلوم ہیں۔ اس کا كلام شعر نہیں۔
قریش: ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے۔
وليد:  وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگر اور ان کے جادو دیکھے ہوئے ہیں۔ جادوگروں کا پھونک مارنا نہیں ۔ اور نہ ان کا رسیوں یا بالوں کو گرہ دینا ہے۔
قریش: ابو عبد شمس پھر تم بتاؤ ہم کیا کہیں؟
ولید:  اللہ کی قسم، اس کے کلام میں بڑی حلاوت ہے۔ اس کلام کی اصل مضبوط جڑ والا درخت خرما ہے اور اس کی فرع پھل ہے۔ ان باتوں میں سے جو بات تم کہوں گے۔ وہ ضرور پہچان لی جائے گی کہ جھوٹ ہے۔ اس کے بارے میں صحت سے قریب تر یہ قول  ہے تم کہو۔ وہ جادوگر ہے۔ اور ایسا کلام لایا  ہے جو جادو ہے۔ اس کلام میں وہ باپ بیٹے  میں، بھائی بھائی میں میاں  بیوی میں اور خویش و اقارب میں جدائی ڈال دیا ہے۔
ولید کا کلام سن کر وہ واپس چلے گئے۔ جب موسم حج  میں لوگ آنے لگے تو وہ ان کے راستوں میں بیٹھتے۔ جو کوئی ان کے پاس سے گزرتا وہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرا دیتے کا حل بیان کر دیتے۔ اللہ تعالی نے ولید کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائی :
ترجمہ: 
چھوڑ دے مجھ کو اور اس کو جو میں نے بنایا اکیلا۔ اور دیا میں نے اس کو مال پھیلا کر اور بیٹے موجود ( زندگی والے) اور تیار کردی اس کی خوب تیاری۔ اور پھر لالچ رکھتا ہے کہ اور دوں۔ کوئی نہیں وہ ہے ہماری آیتوں کا مخالف: ( المدثر: ۱۱تا ۱۶)

ان کے بعد کی اور کئی آیتیں ولید ہی کے بارے میں ہیں ۔
اسی طرح ایک دن جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد  میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے سردارقوم عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس  اور قریش میں یوں گفتگو ہوئی :
عتبہ: اے گروہ قریش! کیا میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جاؤں تا کہ اس سے کلام کروں اور چند باتیں اس کے آگے پیش کروں ۔شاید وہ ان میں سے ایک بات کو پسند کرے۔ پس ہم وہ کردیں اور وہ ہم سےبازرہے۔
قریش: ہاں اے ابوالولید ۔ آپ جائیں اور اس سے گفتگو کیجئے۔
عتبہ: (حضرت سے مخاطب ہوکر ) بھائی کے بیٹے ! آپ کو معلوم ہے کہ خویش و اقارب میں آپ بزرگ و برگزیدہ اور نسب میں عالی رتبہ ہیں۔ آپ اپنی قوم میں ایک نیا مذہب
لائے ہیں جس سے آپ نے ان کی جماعت کو پراگندہ کر دیا ہے۔ آپ نے ان کے
داناؤں کو نادان بتایا۔ ان کے معبودوں اور ان کے دین کو برا کہا۔ اور ان کے گزشتہ آباؤ اجدادکو کافر بتایا۔ سنیئے میں چند باتیں پیش کرتا ہوں ۔ شاید آپ ان میں سے ایک بات
پسند فرمائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم:  ابوالولید بیان کر میں سنتا ہوں ۔
عتبہ: بھائی کے بیٹے اس نئے مذہب سے آپ کا مقصود اگر مال ہے تو ہم آپ کے لیے  اتنا مال جمع کردیتے ہیں کہ آپ ہم سب سے زیادہ مالدار بن جائیں گے  ۔ اگر اس سے ہم پر شرف مقصود ہے تو آپ کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں۔ آپ کے بغیر کوئی کام نہ کیا کریں گے۔ اگر آپ کو ملک مطلوب ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں۔ اگر  ہم آپ اس جن  سے  نہ روک سکیں جو آپ کے پاس آتا ہے تو آپ کا علاج کرائیں گے اور علاج میں اپنا خرچ کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ جن بھاگ جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم: ابوالولید کیا تو کہ چکا جو کہنا تھا؟
عتبہ: جی 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم: مجھ سے سن

عتبہ: سنائیں
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ حم سجدہ کی آیات تا آیہ سجدہ تلاوت فرما کر سجدہ کیا اور عتبہ کھڑا سنتا رہا)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم: ابوالولید تو نے سنا؟
عتبہ میں نے سن لیا ۔ آپ جانیں اور آپ کا کام
قریش : عتبہ کو آتا دیکھ کر ایک دوسرے سے) اللہ کی قسم ابو الولید وہ چہرہ لے کر نہیں آیا جو لے کر گیا تھا ( عتبہ کو پاس بیٹھا دیکھ کر) ابوالولید وہاں کا حال سنائیں
عتبہ: اللہ کی قسم میں نے ایسا کلام سنا جو اس کی مثل پہلے کبھی نہیں سنا۔ اللہ کی قسم وہ شعر نہیں۔ نہ جادو ہے نا کہانت ہے اے گروہ قریش میرا کہا مانو اس شخص کو کرنے دو جو وہ کرتا ہے اور اس سے الگ ہو جاؤ ۔ اللہ کی قسم جو کلام میں نے اس سے سنا ہے اس کی بڑی عظمت و شان ہوگی  اگر اگر عرب اس کو مغلوب کرلیں تو تم غیر کے ذریعے اس سے بچ گئے ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کا ملک تمہارا ملک ہے۔ اور اس کی عزت تمہاری عزت ہے تم اس کے سبب سے خوش نصیب ہو جاؤ گے۔
قریش: ابوالولید! اللہ کی قسم اس نے اپنی زبان سے تجھے بھی جادو کردیا ہے
عتبہ: اس کی نسبت میری یہی رائے ہے ۔ تم جو چاہو کرو۔
اب رسول اللہﷺ  کا ذکر بلاد عرب میں دور دور تک پہنچ چکا تھا قریش روز بروز تشدد میں زیادتی کرتے جاتے تھے۔ انہوں نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں ۔ کمینے لوگوں کو آپ پر برانگیختہ کیا۔ آپ کی تکذیب کی۔ آپ پر استہزاء کیا ۔ آپ کو شاعر کہا ۔ جادوگر بتایا۔ کاہن کہا ۔ سڑی اور پاگل بتایا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تبلیغ فرماتے رہے۔ 
ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے۔ حرم شریف میں اس وقت قریش کی ایک جماعت موجود تھی ۔ عقبہ بن ابی معیط نے ابو جہل کی ترغیب سے ذبح کیے ہوئے اونٹوں کی اوجھڑی سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہ دیکھ کر وہ سب نابکار قہقہ لگا کر ہنسے۔کسی نے آپ کی صاحبزادی خاتون جنت بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو خبر کردی وہ فوراً دوڑی آئیں اور آپ کی پشت مبارک سے وہ پلیدی دور کردی۔ یہ نابکار حرمات اللہ کی بے حرمتی بھی کیا کرتے تھے۔ اس لیے جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو یوں  بددعا فرمائی: ( صحیح بخاری کتاب الجہاد، باب طرح جیف المشرکین فی البشر) یا اللہ تو قریش کو پکڑ۔ یا اللہ تو ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، اور امیہ بن خلف کو پکڑ۔ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ
میں نے ان سب کو بدر کے دن مقتول د یکھا  اور امیہ کے سواسب چاہ بدر میں پھینک دیئے گئے۔ امیہ موٹا تھا۔ جب اسے کھینچنے لگے تو چاہ میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے اعضا کڑے ٹکڑے ہو گئے۔
اسی طرح شیاطین قریش ایک دن خانہ کعبہ میں جمع تھے۔ ابوجہل ایک بھاری پتھر اٹھا کر
سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو کچلنے کے لیے آگے بڑھا۔ جب وہ نزدیک پہنچا تو وہ خوف زدہ اور رنگ بدلا ہوا پیچھے بھاگا ۔ اور پتھر ہاتھ سے نہ پھینک سکا ۔ 
قریش نے پوچھا  ابوالحکم تھجے کیا ہوا؟ بولا جب میں نزدیک گیا تو میں نے اس کے پیچھے ایک اونٹ دیکھا ۔ اللہ کی قسم میں  نے اس کا وہ سر اور گردن اور دانت دیکھے کہ کبھی کسی اونٹ کے دیکھنے میں نہیں آئے۔ وہ اونٹ مجھےکھانے لگا تھا۔ رسول اللہ
نے فرمایا  وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے(سیرت ابن ہشام)۔ اگر ابوجہل اور نزدیک آتا تو اسے پکڑ لیتے‘۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ نابکار کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط نے آپ کی گردن مبارک میں چادر ڈالی۔ پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ    دوڑے آئے اور فرمانے لگے۔ (صحیح بخاری مناقب ابو بکر ) کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل  کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ یہ سن کر وہ ہٹ گئے۔ 
یہ ازیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تک محدود نہ تھی۔ بلکہ آپ کے اصحاب بھی طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا تھے ۔ وہ غریب مسلمان جن کا مکہ میں کوئی قبیلہ اور یارو یاور نہ تھا  خصوصیت سے قریش کا تختہ مشق  بنے ہوئے تھے۔ اذیتیں مختلف انواع کی تھیں مثلا آگ پرلٹادینا ۔ تپتی ریت پرلٹا کر بھاری پتھر سینے پر رکھ دیا تا کہ کروٹ نہ لے سکے۔ چابک سے اس قدر مارنا کہ ٹوٹ جائے۔
چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دھواں دینا ۔ جکڑ کر کوٹھری میں بند کر دیا۔ پاؤں میں رسی  باندھ کر  تپتی ریت پر  گھسیٹنا۔ گلا اس قدر گوٹنا  کہ دم نکل جانے کا گمان ہو جائے ۔ زدو کوب  سے بے ہوش و مختل الحواس کردینا نیزہ مار کر ہلاک کردیناوغیرہ۔

#جاری_ہے

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو