I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 12

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط12

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


حرب فجار میں شرکت :

آغاز اسلام سے پہلے عرب میں جولڑائیاں ان مہینوں میں
پیش آتی تھیں جن میں لڑ نا نا جا ئز تھاحروب فجار کہلاتی تھیں۔
چوتھی یعنی آخری حرب فجار میں حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی شرکت فرمائی تھی۔ اس جنگ کا سبب یہ تھا کہ
نعمان بن منذرشاه جیرہ ہر سال اپنا تجارتی مال بازار عکاظ میں فروخت ہونے کے لیے اشراف عرب میں سے کسی کی پناہ میں بھیجا کرتا تھا
۔ اس دفعہ جو اس نے اونٹ لدوا کر تیار کیے۔ اتفاقاً عرب کی ایک جماعت اس کے پاس حاضرتھی جن میں بنی کنانہ میں سے براض اور ہوازن میں سے عروہ رحال موجود تھا۔ نعمان نے کہا: اس قافلہ کوکون پناہ دے گا؟ براض بولا: میں بنی کنانہ سے پناہ دیتا
ہوں ۔ نعمان نے کہا میں ایساشخص چاہتا ہوں جو اہل نجد تہامہ سے پناہ دے۔ یہ سن کر عروہ نے کہا:کلب خليع يجير هالك. میں اہل نجد وتہامہ سے پناہ دیتا ہوں۔ براض نے کہا اے عروہ کیا تو بنی کنانہ سے پناہ دیتا ہے؟ عروہ نے کہا: تمام مخلوق سے۔ پس عروہ اس قافلے کے ساتھ نکلا۔ براض بھی اس کے پیچھے روانہ ہوا۔ اور موقع پا کر عروہ کو ماہ حرام میں قتل کر ڈالا ۔ ہوازن نے قصاص میں براض کوقتل کرنے سے انکار کیا۔ کیوں کہ عروہ ہوازن کا سردار تھا۔ وہ قریش کے کی سردار کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ مگر قریش نے منظور نہ کیا۔ اس لیے قریش و کنانہ اور ہوازن میں جنگ چھڑ گئی ۔ کنانہ کا
سپہ سالار اعظم حرب بن امیہ تھا۔ جو ابوسفیان کا باپ اور حضرت امیر معاویہ کا دادا تھا۔ اور ہوازن  کا سالاراعظم سعود بن معتب ثقفی تھا تو لشکر کنانہ کے ایک پہلو پرعبدالله بن جدعان اور دوسرے پرکریز بن ربیعہ اور قلب میں حرب بن امیہ تھا۔ اس جنگ میں کئی لڑائیاں ہوئیں۔ ان میں سے ایک
میں حضرت کے چچا آپ کو بھی لے گئے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک چودہ سال کی تھی مگر آپ نے خود لڑائی نہیں کی۔
بلکہ تیر اٹھا اٹھا کر اپنے چچاؤں کو دیتے رہے چنانچہ فرماتے ہیں: و كنت انبل على اعمامی(اور میں تیر اٹھا کر اپنے چچاؤں کو دے رہا تھا) بعضے کہتے ہیں آپ نے بھی تیر پھینکے تھے بہر حال اخیر میں فریقین میں صلح ہوگئی ۔

#حلف_الفضول_میں_شرکت :

جب قریشی حرف فجار سے واپس آئے تو یہ واقعہ پیش آیا کہ شہرزبید کا ایک شخص اپنے مال تجارت مکہ میں لایا ہے عاص
بن وائل ہی نے خرید لیا۔ اس نے  قیمت نہ  دی۔ اس پر زبیدی نے اپنے  احلاف  عبدالدار و مخزوم و جمح و سہم  و عدی بن کعب سے مدد مانگی مگر ان سب نے مدد دینے سے انکار کیا۔ پھر اس نے جبل ابوقبیس پر
کھڑے ہو کر فریاد کی۔ جسے  قریش کعبہ میں سن رہے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم زہرہ اور بنو اسد بن عبد العزی سب عبدالله بن جدعان کے گھر میں جمع ہوئے اور باہم عہد کیا کہ ہم ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کیا کریں گے۔ اور مظالم واپس کرادیا کریں گے اس کے بعد وہ سب عاص بن وائل کے پاس گئے اور ان سے زبیدہ کا مال واپس کرایا۔
اس معاہدہ کو حلف الفضول اس واسطے کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ اس معاہدہ کے مشابہ تھا جو قدیم زمانہ میں جرہم کے وقت مکہ میں بریں  مضمون ہوا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی حق رسانی کیا کریں گے۔ اورقوی سے ضعیف کا اور مقیم سے مسافرکاحق لے کر دیا کریں گے۔ چونکہ جرہم کے وہ لوگ جو اس معاہدہ کے محرک تھے ان سب کا نام فضل تھا۔ جن میں سے فضل بن حارث او فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ تھے۔ اس لیے اس کو حلف الفضول‘‘ سے موسوم کیا گیا تھا۔
اس معاہد ہ قریش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے۔ اور عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ اس معاہدے کے مقابلہ میں اگر مجھ کو سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں اسے نہ توڑتا
اور ایک روایت میں ہے کہ میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایسے معاہدے میں حاضر ہوا کہ اگر اس سے غیر حاضری پر مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں پسند نہ کرتا۔ اور آج اسلام میں بھی اگر کوئی مظلوم یال حلف الفضول کہ کر پکارے تو میں مدد دینے کو حاضر ہوں۔

#شام_کا_دوسرا_سفر:

جب حضرت کی عمر مبارک پچیس سال کی ہوئی تو آپ کے صدق و امانت کا شہرہ دور دور تک پہنچ چکا تھا یہاں تک کہ زبان خلق نے آپ کو امین کا لقب دے دیا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ نے جو ایک معزز مالدار خاتون تھیں آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لے کر شام کو جا ئیں ۔ جو معاوضہ میں اوروں کو دیتی ہوں،

آپ کو اس کا مضاعف دوں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔ اور مال تجارت لے کر شام کو روانہ ہوئے۔ حضرت خدیجہ کا غلام میسرہ آپ کے ساتھ تھا جو آپ کی خدمت کرتا تھا اور آپ کی ضروریات
کا متکفل تھا۔ جب آپ شام میں پہنچ تو بازار بصر ے میں ایک راہب نسطور انام کی خانقاہ کے نزدیک اترے۔ وہ راہب میسرہ کی طرف آیا اور اسے جانتا تھا۔ کہا:" اے میسرہ یہ  کون ہے جو اس درخت کے نیچے اترا ہے میسرہ نے کہا۔ اہل حرم میں سے قریش سے ہے راہب نے کہا ۔ سوائے
نبی کے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں اترا۔ پھر اس نے پوچھا ۔ کیا اس کی دونوں آنکھوں میں
سرخی ہے۔ میسرہ نے جواب دیا ہاں ۔ اور کبھی دور نہیں ہوتی۔ یہ سن کر راہب بولا: یہ وہی ہیں اور
یہی آخرالانبیاء ہیں ۔ کاش میں ان کو پاؤں جس وقت یہ مبعوث ہوں گے۔ اورمیسرہ سے کہا کہ ان سے جدا نہ ہوتا اور نیک نیتی سے ان کے ساتھ رہنا۔ کیوں کہ الله تعالی نے ان کو نبوت کا شرف عطا کیا ہے۔ حضرت بازار بصری سے  خرید و فروخت کر کے مکہ واپس آئے جب حضرت خدیجہ نے جو 
عورتوں کے درمیان ایک بالا خانے میں بیٹھی تھی آپ کو آتے ہوئے دیکھا تو دو فرشتے آپ کے سر مبارک پردھوپ سے سایہ کیے ہوئے تھے میسرہ نے حضرت خدیجہ سے بیان کیا کہ میں نے تمام سفر میں آپ کا یہی حال دیکھا ہے اور اس راہب کے قول و وصیت کی خبر دی۔ اللہ تعالی نے اس تجارت
میں مضاعف نفع دیا۔ حضرت خدیجہ نے جو دیکھا اور سنا اس سے ظاہر ہو گیا کہ آپ بے شک ساری مخلوق کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
#جاری_ہے

آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو