I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 11

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط11

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#حضرت_آمنہ_کی_وفات:

حضرت کی عمر مبارک چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ  آپ کو ساتھ لے کر مدینہ میں آپ کے دادا کے ننہال بنو عدی و بنو نجار میں لے گئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے گئی تھیں ۔ ام ایمن بھی ساتھ تھی۔ جب واپس آئی تو راستے میں مقام ابواں میں انتقال فرما گئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔
ہجرت کے بعد جب حضرت کا گزر بنونجار پر ہوا تو اپنے قیام مدینہ کا نقشہ سامنے آ گیا اور اپنے قیام گاہ کو دیکھ کر فرمایا۔ اس گھر میں میری والدہ مکرمہ  مجھے لے کر ٹھہری تھیں۔ میں بنی عدی بن نجار کے تالاب میں تیرا کرتا تھا۔ (مواہب لدنیہ)

#عبدالمطلب_وابوطالب_کی_کفالت:

ام ایمن  حضرت کو مکہ میں لائیں اور آپ کے دادا عبدالمطلب کے حوالہ کیا۔ عبد المطلب آپ کی پرورش کرتا رہا مگر جب آپ کی عمر مبارک آٹھ سال کی ہوئی تو اس نے بھی وفات پائی اور ۔ حسب وصیت آپ کا چچا ابو طالب جو حضرت علی کا باپ اور آپ کے والد عبد الله کا ماں جایا بھائی تھا۔
آپ کی تربیت کا کفیل ہوا۔ ابو طالب نے آپ کی کفالت کو بہت اچھی طرح انجام دیا۔ اور آپ کو اپنی ذات اور بیٹوں پر مقدم رکھا۔

#طفولیت_میں_حضرت_کی_دعاسے نزولِ_باراں:

ایک دفعہ ابو طالب حضرت کو ساتھ لے کر بارش کے لیے دعا کی
تھی جوحضور کی برکت سے فوراً    قبول ہوئی تھی۔ چنانچہ ابن عساکر جہلمہ بن عرفطہ سے ناقل ہے کہ اس نے کہا کہ میں مکہ میں آیا۔ اہل مکہ قحط میں مبتلا تھے۔ ایک بولا کہ لات و عزیٰ کے پاس چلو دوسرا بولا کہ منات کے پاس چلو۔ یہ سن کر ایک خوبرو جیدالرائے بوڑھے نے کہاتم کہاں الٹے جارہے ہو۔
حالانکہ ہمارے درمیان با قیہ ابراہیم وسلالہ اسماعیل موجود ہے۔ وہ بولے کیا تمہاری مراد ابو طالب ہے؟ اس نے کہا! ہاں 
پس  وہ سب اٹھے اور میں بھی ساتھ ہولیا۔ جا کر دروازے پر دستک دی ابو طالب نکلا تو کہنے لگے : ابوطالب! جنگل قحط زدہ ہو گیا۔ ہمارے زن و فرزند قحط میں مبتلا ہیں ۔ چل
مینہ  مانگ۔ پس ابوطالب نکلا اس کے ساتھ ایک لڑکا تھا۔  گویا آفتاب تھا۔ جس سے ہلکا سیاہ بادل دور ہو گیا ہو۔ اس کے گرد اور چھوٹے چھوٹے لڑ کے تھے۔ ابو طالب نے اس لڑکے کولیا اور اس کی پیٹھ
کعبہ سے لگائی ۔ اس لڑکے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے التجا کرنے والے کی طرح اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ حالانکہ اس وقت آسمان پر کوئی بادل کا ٹکڑا نا  تھا۔ اشارہ کرنا  تھا کہ چاروں طرف سے بادل ہی بادل آنے لگے۔ برسا اور خوب برسا جنگل میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا ۔ اور آبادی و وادی سب سر بزو شاداب ہو گئے ۔ اس بارے میں ابوطالب نے کہا ہے:
وابيض يستقى الغمام بوجهه ___ ثمال اليتمی عصمة للارامل
اور گورے رنگ والے جن کی ذات کے وسیلہ سے نزول باراں طلب کیا جاتا ہے۔
یتیموں کے ملجا و ماوی  ۔ رانڈوں اور درویشوں کے نگہبان ‘‘
بعثت کے بعد جب قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ستارہے تھے تو ابوطالب نے ایک قصیدہ لکھا تھا
جو سیرت ابن ہشام میں دیا ہوا ہے۔ شعر مذکور اسی قصیدے میں سے ہے۔ اس شعر میں ابوطالب
قریش پر بچپن سے حضرت کے احسانات جتا رہا ہے۔ اور گویا کہ رہا ہے کہ ایسے قدیم و با برکت محسن کے درپے آزار کیوں ہو(مواہب وزرقانی)

#شام_کا_پہلا_سفر

جب حضرت کی عمر مبارک بارہ سال کی ہوئی تو ابوطالب حسب معمول قافلہ
 قریش کے ساتھ بغرض تجارت ملک شام کو جانے لگا۔ یہ دیکھ کر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)  اس سے لپٹ گئے ۔ اس لیے اس نے آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب قافلہ شہر بصری میں پہنچا تو وہاں بحیرا راہب نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا۔ اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا، یہ سارے جہان کا سردار ہے۔
رب العالمین کا رسول ہے۔ اللہ اس کو تمام جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیے گا۔ قریشیوں نے پوچھا تجھے یہ کیوں کر معلوم ہوا۔ اس نے کہا کہ جس وقت تم گھاٹی سے چڑ ھے کوئی درخت اور پتھر باقی نا رہا مگر سجدے میں گر پڑا۔ درخت اور پتھر پیغمبر کے سوا کسی دوسرے شخص کو سجدہ نہیں کرتے اور میں ان کو مہر نبوت سے پہچانتا    ہوں جو ان کے شانے کی ہڈی کے نیچے سیب کی مانند ہے پھر اس راہب نے کھانا تیار کیا۔ جب وہ ان کے پاس کھانا لایا تو حضرت اونٹوں کے چرانے میں مشغول تھے۔ اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو بادل نے آپ پر سایہ کیا ہوا تھا۔
جب آپ قوم کے نزدیک آئے تو ان کو درخت کے سایہ کی طرف آگے بڑھے ہوئے پایا جس وقت آپ بیٹھ گئے تو سایہ آپ کی طرف ہٹ آیا۔ پھر کہا ۔ تمہیں خدا کی قسم بتاؤ ان کا ولی کون ہے؟ انہوں نے کہا۔
 ابو طالب۔پس اس نے ابو طالب سے بتاکید تمام کہا  کہ ان کو مکہ واپس لے جاؤ۔ کیونکہ اگر تم آگے بڑھو گے تو ڈر ہے۔ کہیں  یہودی ان کو قتل نا کردیں۔
لہٰذا ابو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لے آئے۔اور شہر بصری سے آگے نا بڑھا
  اور اس  راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خشک روٹی اور زیتون کا تیل زاد راہ دیا (الخصائص الکبری، جلد۱ صفحہ ۴۸

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
#جاری_ہے

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو