I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 2 اگست، 2020

سیرت رسول عربی ﷺ قسط 10

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

قسط 10

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


رضاعت


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی والدہ ماجدہ نے کئی دن دودھ پلایا۔پھر ابو لہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثویبہ نے چند روز ایسا ہی کیا ۔بعد ازاں حلیمہ سعدیہ نے یہ خدمت اپنے ذمہ لی۔ قریش میں دستور تھا کہ شہر کے لوگ اپنے شیرخوار بچوں کو بدوی میں بھیج دیا کرتے تھے۔
تاکہ بچے بدوؤں میں پل کر فصاحت اور عرب کی خالص خصوصیات حاصل کریں اور مدت رضاعت کے ختم ہونے پر عوضانہ دے کر واپس لے آتے تھے۔اس لیے نواح مکہ کے قبائل کی بدوی عورتیں سال میں دو دفعہ ربیع و خریف میں بچوں کی تلاش میں مکہ آیا کرتی تھیں۔ چنانچہ اس دفعہ قحط سالی میں حلیمہ سعدیہ اپنے قبیلے کی دس عورتوں کے ساتھ اسی غرض سے شہر میں آئی۔ حلیمہ کے ساتھ اس کا شیرخوار بچہ عبدالله نام، اس کا شوہر حارث بن عبد العزی سعدی، ایک دراز گوش اور ایک اونٹنی تھی۔
بھوک کے مارے نہ اونٹنی دودھ کا قطرہ دیتی اور نا حلیمہ کی چھاتیوں میں کافی دودھ تھا۔
اس لیے بچہ بے چین رہتا تھا۔ اور  رات کو اس کے رونے کے سبب میاں بیوی سو بھی نا سکتے تھے۔
اب قسمت جاگی تو حلیمہ تو جو شرف و کمال میں مشہور تھی ایسا مبارک رضیع مل گیا کہ ساری زحمت کافور ہوگئی۔ دیکھتے ہی دائیں چھاتی سے لگا لیا۔ دودھ نے جوش مارا حضرت نے پیا اور بائیں چھاتی چھوڑ دی جس سے حلیمہ کے بچہ نے پیا۔ اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا رہا یہ عدل جبلی کا نتیجہ تھا ڈیرے پر پہنچی تو پھر دونوں بچوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ حارث نے اٹھ کر اونٹنی کو جو دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے جس سے میاں بیوی سیر ہو گئے اور رات آرام سے کٹی۔ اس طرح تین راتیں مکہ میں گزار کر حضرت آمنہ کو وداع کردیا گیا اور حلیمہ اپنے قبیلہ کو آئی اس نے حضرت کو اپنے آگے درازگوش  پر سوار کرلیا۔
دراز گوش نے پہلے کعبہ کی طرف تین سجدے کرکے سر آسمان کی طرف اٹھایا گویا کہ شکریہ ادا کیا کہ اس سے یہ خدمت لی گئی۔
پھر روانہ ہوئی اور حضرت کی برکت سے ایسی چست و چالاک بن گئی کہ قافلہ کے سب چوپایوں سے آگے چل رہی تھی۔ حالانکہ جب آئی تھی تو کمزوری کے سبب سب سے پیچھے رہ جاتی تھی۔ ساتھ کی عورتیں حیران ہوکر پوچھتیں تھیں ابو ذویب کی بیٹی! کیا یہ وہی دراز گوش ہے؟ حلیمہ جواب دیتی واللہ یہ وہی ہے بنو سعد میں اس وقت سخت قحط تھا مگر حضرت کی برکت سے حلیمہ کے مویشی سیر ہو کر آتے اور خوب دودھ دیتے۔
دوسروں کے مویشی بھوکے آتے اور دودھ کا ایک قطرہ بھی نا دیتے۔ اس طرح حلیمہ کی سب تنگ دستی دور ہوگئی۔(مواہب زرقانی)

حلیمہ حضرت کو کسی دور جگہ نہ جانے دیتی تھی ۔ ایک روز وہ غافل ہوگئی۔ اور حضرت اپنی رضاعی بہن شیماء کے ساتھ دوپہر کے وقت بھیڑوں کے ریوڑ میں تشریف لے گئے۔ مائی حلیمہ تلاش میں نکلی اور آپ کو شیماء کے ساتھ پایا ۔ کہنے لگی ایسی تپش میں؟ شیماء بولی: (ابنِ سعد، وابو نعیم وغیرہ) اما جان میرے بھائی نے تپش محسوس نہیں کی۔ بادل آپ پر سایہ کرتے تھے  جب آپ ٹھہر جاتے تو بادل بھی ٹھہر جاتے اور جب آپ( جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے تو درو شریف ضرور پڑھا کریں جزاک اللہ خیراً) چلتے تو بھی چلتے یہی حال رہا یہاں تک کہ ہم اس جگہ آ پہنچے ہیں۔
جب حضرت دو سال کے ہوگئے تو مائی حلیمہ نے اپنا دودھ چھڑا دیا۔ اور آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لے کر آئی اور کہا۔ کاش تو اپنے بیٹے کو میرے پاس اور کچھ عرصہ رہنے دیں تاکہ قوی ہو جائے۔ کیونکہ مجھے اس پر وبائے مکہ کا ڈر ہے یہ سن بی بی آمنہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حلیمہ کے ساتھ واپس کردیا ۔ حلیمہ کا بیان ہے کہ ہمیں واپس آئے دو یا تین مہینے ہی گزرے تھے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی اپنے عبدالله کے ساتھ ہمارے گھروں کے پیچھے ہماری بھیڑوں میں تھے کہ آپ کا بھائی دوڑتا آیا۔
کہنے لگا کہ میرے اس قریشی بھائی کے پاس دو شخص آئے جن پر سفید کپڑے ہیں۔  انہوں نے پہلو کے بل لٹا کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ یہ سن کر میں اور میرا خاوند دوڑے گئے ۔ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے ہم دونوں گلے لپٹ گئے اور پوچھا، بیٹا آپ کو کیا ہوا؟  آپ نے بیان کیا کہ دو شخص میرے پاس آئے جن پر سفید کپڑے تھے۔ انہوں نے پہلو کے بل لٹا کر میرا پیٹ پھاڑ دیا۔ اور اس میں سے ایک خون کی پھٹکی نکال کر کہا: 
ھذا حظ الشیطٰن منک!!  ( یہ تجھ سے شیطان کا حصہ ہے) پھر اسے حکمت سے بھر کر سی دیا پس ہم آپ کو خیمے میں لے آئے۔ میرے خاوند نے کہا حلیمہ مجھے ڈر ہے اس لڑکے کو کچھ آسیب ہے۔
آسیب ظاہر ہونے سے پہلے اسے اس کو کنبے چھوڑ آ۔ میں آپ کو آپ کی والدہ کے پاس لائی اور بڑے اصرار کے بعد اس سے حقیقت حال بیان کی ۔ ماں نے کہا : اللہ کی قسم ان پر شیطان کو دخل نہیں۔ میرے بیٹے کی بڑی شان ہے۔

تعدد_شق_صدر

واضح رہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ کا شق صدر چار مرتبہ ہوا ہے۔ ایک وہ جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ یہ اس واسطے تھا کہ حضور انور وساوس شیطان سے جن میں بچے مبتلا ہوا کرتے ہیں محفوظ رہیں۔ اور بچپن ہی سے اخلاق حمیدہ پر پرورش پائیں۔ 
دوسری مرتبہ دس برس  کی عمر میں ہوا تاکہ آپ کامل ترین اوصاف پر جوان ہوں۔ 
تیسری بار غار حرا میں بعثت کے وقت ہوا تاکہ آپ وحی کے بوجھ کو برداشت کر سکیں۔
چوتھی مرتبہ شب معراج میں ہوا تاکہ آپ مناجات الٰہی کےلیے تیار ہو جائیں

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں
#جاری_ہے
فیس بک پیج فالو کریں

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/میں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو