I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

بدھ، 19 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 37

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط37


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی



حضرت حنظلہ بن ابی عامر انصاری اوسی نے مشرکین کے سپہ سالار ابوسفیان پر حملہ کیا اورقریب تھا کہ ابو سفیان کوقتل کر دیتے۔ مگر شداد بن الاسود نے ان کے وار کو روک لیا۔ اور اپنی تلوار سے حضرت حنظلہ کو شہید کردیا ۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ فرشتے حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ۔ ان

کی بیوی سے ان کا حال دریافت کرو۔ بیوی نے کہا: کہ شب احد کو ان کی شادی ہوئی تھی ۔ یہ صبح کواٹھے تو غسل کی حاجت تھی  غسل کے لیے آدھا سر دھویا تھا۔ کہ دعوت جنگ کی آواز کان میں پڑی ۔ فوراً اسی حالت میں شریکِ جنگ ہو گئے۔  یہ سن حضور نے فرمایاکہ کی سبب سے اسے فرشتے غسل دے رہے ہیں ۔اسی وجہ سے حضرت حنظلہ کو غسیل الملائکہ کہتے ہیں۔

 بہادران اسلام نے خوب داد شجاعت دی ۔مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے۔ عثان ابی طلحہ کے بعد ان کے علمبردار ابوسعید بن ابی طلحہ، مسافح بن طلحہ ، حارث بن طلحہ، کلاب طلحہ، جلاس بن طلحہ، ارطات بن شراحیل، شریح بن قارظ اور ابوزید بن عمرو بن عبد مناف یکے بعد دیگرے قتل ہو گئے۔ ان

کا جھنڈا زمین پر پڑا رہ گیا۔ کوئی اس کے نزدیک نہ آتا تھا۔ عمرو بنت علقمہ حارشیہ نے اٹھالیا۔ جس سے ایک حبشی غلام صواب نامی نے  لے لیا۔ قریش اس کے گرد جمع ہو گئے

۔ لڑتے لڑے صواب کے دونوں بازو کٹ گئے ۔ وہ سینے کے بل زمین پر گر پڑا۔ اور جھنڈے کو سینے اور گردن کے درمیان دبا 

لیا۔ اس حالت میں یہ کہتا ہوا مارا گیا ۔ کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ 

صواب کے بعد کسی کو جھنڈا اٹھانے کی جرات نہ ہوئی ۔ مشرکین کو شکست ہوئی۔ وہ عورتیں جو دف بجاتی تھیں۔ اب کپڑے چڑھائے برہنہ ساق پہاڑ پر بھاگی جارہی تھیں ۔مسلمان قتل و غارت  میں مشغول تھے یہ دیکھ کر عینین پر تعینات تیراندازوں نے آپس میں کہا : غنیمت! غنیمت! تمہارے اصحاب غالب آ گئے ہیں۔اب تم کیا دیکھتے ہو؟“ حضرت عبد الله بن جبیر نے انہیں رسول الله  کا ارشاد یاد دلایا۔  مگر وہ بدیں خیال کہ مشرکین  اب واپس نہیں آ سکتے۔ اپنی جگہ چھوڑ کر لوٹنے میں مشغول ہو گئے۔ اور صرف چند آدمی حضرت عبداللہ کے ساتھ رہ گئے۔ خالد بن اور عکرمہ بن ابی جہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر حضرت عبد الله اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور سب کو شہید کردیا۔

پر درہ کوہ میں سے آ کر عقب سے لشکر اسلام پر ٹوٹ پڑے ۔ اور ان کی صفوں کو درہم برہم کر دیا۔ ابلیس لعین نے پکار کر کہا "ان محمدا قد قتل" معاذ الله ( محمد قتل ہو چکے) مسلمان سراسیمہ بھاگنے لگے۔ اور ان کے تین فرقے ہو گئے ۔ فرقہ قلیل بھاگ کر مدینے کے قریب پہنچ گئے۔ اور اختتام

جنگ تک واپس نہیں آئے۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے:

ترجمہ!

تحقیق جو لوگ کہ پیٹھ موڑ گئے تم میں سے اس دن کے ملیں دو جماعتیں ۔ سوائے اس

کے نہیں کہ دھوکا دیا ان کو شیطان نے کچھ ان کے گناہوں کی شامت ہے۔ تحقیق

معاف کیا اللہ نے ان سے بے شک اللہ بخشنے والا برد بار‘‘ (آل عمران:۱۵۵)

دوسرا فرقہ یعنی اکثر صحابہ کرام یہ سن  کر کہ رسول اللہ  قتل ہو گئے ۔ حیران ہو گئے ان میں ہے جہاں کوئی تھا  وہیں رہ گیا۔ اور اپنی جان بچاتا رہا۔ یا جنگ کرتا رہا۔ تیسرا فرقہ جو بارہ یا کچھ اوپر صحابہ تھے۔ رسول اللہ  کے ساتھ ثابت رہا۔

فتح کے بعد مسلمانوں کو جوشکست ہوئی۔ اس کی وجہ آنحضرت کے ارشاد کی خلاف ورزی

تھی۔ جیسا کہ آیات  ذیل سے ثابت ہے:


وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَهُمۡ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَـنَازَعۡتُمۡ فِى الۡاَمۡرِ وَعَصَيۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰٮكُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ‌ؕ مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ  ‌‌‌ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡ‌ۚ وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ‌ؕ وَ اللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞ 


ترجمہ:

اور بیشک اللہ نے تم سے کیا ہوا وعدہ سچا کردیا جب تم (ابتداء میں) اس کے اذن سے ان (کافروں) کو قتل کر رہے تھے۔ حتی کہ جب تم نے بزدلی دکھائی اور (رسول اللہ کا) حکم ماننے میں اختلاف کیا اور اپنی پسندیدہ چیزوں (مال غنیمت) کو دیکھنے کے بعد تم نے (رسول اللہ کی) نافرمانی کی تم میں سے بعض دنیا کا ارادہ کر رہے تھے اور بعض آخرت کا ارادہ کر رہے تھے ‘ پھر اللہ نے تم کو ان سے پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیرلیا تاکہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور بیشک اس نے تم کو معاف کردیا اور اللہ ایمان والوں پر بہت فضل (کرنے) والا ہے( آل عمران: 152)

خالد بن ولید کے حملے پر مسلمانوں میں جو لوٹنے میں مشغول تھے۔ ایسی ابتری اور سراسیمگی پھیلی۔ کہ اپنے بیگانے میں تمیز نہ رہی۔ چنانچہ حضرت حذیفہ کے والد حضرت یمان کو مسلمانوں  نے شہید کردیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی آواز نے بڑے بڑے بہادروں کو بدحواس کر رکھا تھا۔ حضرت انس بن مالک کا بیان ہے۔ کہ میرے چچاحضرت انس ابن نظر جنگ بدر میں حاضر نہ تھے۔ وہ رسول اللہ  کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ میں پہلے قتال میں جوآپ نے بذات شریف مشرکین سے کیا ہے۔ حاضر نہ تھا۔ اگر خدا مجھے مشرکین کے قتال میں حاضر کرے۔ تو دیکھیے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ جب احد کا دن آیا اور مسلمانوں نے شکست کھائی تو کہا: یا اللہ ! میں عذر چاہتا ہوں تیرے آگے اس سے جو ان لوگوں نے کہا: یعنی اصحاب کرام نے۔ اور بیزار ہوں تیرے آگے اس سے جو ان لوگوں نے کیا یعنی مشرکوں نے۔  پھر لڑائی کے لیے آئے ۔ حضرت سعد بن معاذ ان کو ملے۔ ابن  نضر نے کہا ۔ سعد! میں بہشت چاہتا ہوں اور نظر کے رب کی کہ قسم

میں احد کی طرف سے اس کی خوشبو پاتا ہوں ۔ سعد نے کہا: یارسول الله میں نہ کر سکا جو ابن نضر نے کیا۔ انس بن مالک کا قول ہے کہ ہم نے ابن نضر پراسی سے کچھ اوپرتلوار و نیزه و تیر کے زخم پائے ۔ اور وہ شہید تھے۔ مشرکین نے ان کو مثلہ کر دیا تھا۔ ان کو فقط ان کی بہن نے انگلیوں کے

پوروں سے پہچانا۔ راوی کا بیان ہے۔ کہ ہم گمان کرتے تھے کہ آیت ذیل  ابن نضر اور اس کے مثل دوسروں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔


ترجمہ:

مسلمانوں میں سے وہ مرد ہیں کہ سچ کر دکھایا انہوں نے اس چیز کو کہ عہد باندھا تھا

اللہ نے اس پر۔ پس بعض ان میں سے وہ ہے کہ پورا کر چکا کام اپنا اور ان میں

سے وہ ہے کہ انتظار کرتا ہے۔ اور نہیں بدل ڈالا انہوں نے کچھ بدل ڈالنا ۔ (احزاب:۲۳)

ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن نضر نے راستے میں مہاجرین و انصار کی ایک

جماعت کو دیکھا۔ جس میں حضرت عمر فاروق وطلحہ بن عبیداللہ بھی تھے۔ وہ مایوس ہو کر بیٹھ رہے تھے۔ ابن نضر نے ان سے پوچھا کہ کیوں بیٹھے رہے ہو انہوں نے جواب دیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  شہادت

پاچکے ہیں ۔ ابن نصر نے کہا: کہ حضور کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ تم بھی اسی طرح دین پر شہید ہوجاؤ۔ پھر ابن نصر نے جنگ کی اور شہید ہو گئے ۔حضرت ابن نضر کی طرح ثابت بن وحداح آئے اور انصار سے یوں خطاب کیا: اے گروہ انصار! اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  شہید ہو چکے ہیں ۔ تو الله تو زندہ ہے مرتا نہیں۔ تم اپنے دین کے لیے لڑو۔ یہ کہ کر انہوں نے چند انصار کے ساتھ خالد بن ولید کی فوج پر حملہ کیا۔ مگر خالد بن ولید نے ان کو شہید کر دیا ( اصابہ ترجمہ ثابت بن وحداح)


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹



آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو