الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط58
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
#عقیدۂ_حیات_النبی
اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص حضور سید المرسلین ﷺ اپنی اپنی مزارات میں زندہ ہیں۔ بحیات حقیقیہ دنیاوی۔ قرآن مجید میں جو آپﷺ کی موت کی خبر ہے وہ موت عادی ہے۔ جس سے مخلوقات میں کے کسی کو چارہ نہیں ۔ اسی عادی موت کے بعد الله تعالی نے پیغمبروں کو حیات بخش دی ہے احادیثِ صحیحہ سے انبیاء و شہداء کے واسطے اسی حیات کا دائمی ہونا ثابت ہے۔ ابن تیمیہ کے وقت سے ایک فرقہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو کہتا ہے کہ انبیاء بھی دوسرے مردہ اشخاص کی طرح زمین کے نیچے مدفون اور مردہ ہیں۔ اس لئے مدینہ منورہ میں روضہ شریف پر حاضر ہونا اور آپﷺ کے وسیلہ سے طلب حاجات بے کار و بے سود ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہ کا بڑا شاگرد ابن القیم اپنی کتاب عقائد یعنی قصیدہ نونیہ ( مطبور مصر صفحہ ۱۴۱ ) میں یوں لکھتا ہے:
من فوقه اطباق ذاك الترب واللبنات ____ قد عرضت على الجدران
لوكان حيا في الضريح حياته قبل الممات بغير فرقان
وماكان تحت الارض بل من فو قهاوالله هذه سنة الرحمان
"حضرت نبی پر ڈھیروں مٹی اور اینٹیں ہیں۔ دیواریں بنی ہوئی ہیں ۔ اگر آپ قبر
شریف میں ویسے ہی زندہ ہوتے جیسے موت سے پہلے تھے تو زمین کے نیچے نہ ہوتے بلکہ اس کے اوپر ہوتے۔ واللہ عادت اللہ یہی ہے"
توسل اور زیارت روضہ اقدس کی بحث آگے آئے گی۔ ان شاء الله تعالی ۔ یہاں صرف حیات انبیاء کرام بالخصوص حیات حضور سید المرسلین ﷺ کاثبوت پیش کرنا مقصود ہے۔
قرآن کریم میں شہداء کرام کی حیات کی نص موجود ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام شهدا ، عظام سے یقیناً افضل ہیں۔ ان میں وصف نبوت کے ساتھ بالعموم وصف شہادت بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ نے وفات شریف کے وقت یوں فرمایا:
يا عائشة ما ازال اجدالم الطعام الذي اکلت بخيبر وهذا أو ان انقطاع ابہري من ذلك السم -
اے عائشہ مجھے خیبر کے کھانے کی تکلیف برابر رہی ہے۔ اور اب میری رگ جان اسی زہر سے منقطع ہوتی ہے۔
ان سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ شہادت کا درجہئ بھی حاصل ہے۔ لہذا آپ سید المرسلین ہونے کے ساتھ سید الشہداء بھی ہوئے ہیں پس آپ کی حیات شہداء کی شہداء کی حیات سے اکمل ہے۔ بایں ہمہ آپ کو مردہ کہنا کیسی گستاخی ہے حالانکہ قرآن کریم میں شہداء کی نسبت ارشاد باری تعالی ہے کہ ان کو مردہ نہ کہو ( البقرہ)
علامہ سمہودی وفا الوفاء ( جز ثانی صفحہ۴۰۵) میں لکھتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ وفات کے بعد زندہ ہیں ۔ اسی طرح دیگر انبیاء بھی اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں ایسی حیات کے ساتھ جو شہداء ( جن کی حیات کی خبر الله تعالی نے اپنی کتاب عزیز میں دی ہے) کی حیات سے اکمل ہے اور ہمارے نبی سیدالشہداء ہیں اور شہداء کے اعمال آپ کی میزان میں ہیں ۔
احادیثِ صحیحہ سے بھی حیات انبیاء کا ثبوت ملتا ہے۔ ان میں سے چند ذیل میں درج کی جاتی ہیں
#ترجمہ_حدیث_اول
حضرت اوس سے روایت ہے کہا، فرمایا رسول اللہ نے تمہارے فضل ایام میں سے جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم پیدا کیے گئے اور اسی میں قبض کیے گئے۔ اس میں اور نفخہ ثانیہ او نفخہ اولی ہے پس تم اس دن مجھے پر درود زیادہ بھیجو۔ کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول الله! ہمارا درود آپ پر کس طرح پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ بوسیدہ ہڈیاں ہوں گے۔ ( قول راوی ) صحابہ کی مراد ارمت سے بلیت ( بوسیدہ ہوں گے ) ہے۔ آپ نے فرمایا کہ الله تعالی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ پیغمبروں کے جسموں کو کھائے۔ اسے ابو داؤد و نسائی وابن ماجہ و دارمی نے اور بیہقی نے دعوت الکبیر میں روایت کیا ہے
اس حدیث سے ثابت ہے کہ انبیا علیہم السلام جسموں کے ساتھ زندہ دفن ہیں کیوں کہ صحابہ کرام نے جب حضور علیہ السلام کا ارشاد سنا کہ تمہارا درود مجھ پرعرض کیا جاتا ہے تو ان کو شبہ ہوا کہ آیا یہ عرض بعد وفات شریف صرف روح پر ہوگا۔ یاروح مع الجسد پر کیوں کہ انہوں نے خیال کیا کہ جسد نبی دوسرے اشخاص کے جسد کی مانند ہیں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ میرا جسد دوسرے اشخاص کے جسد کی مانند نہیں ہے۔
کیونکہ پیغمبروں کے جسم کو مٹی نہیں کھاتی۔ پس وہ سمجھ گئے۔ یہ عرض روح مع الجسد پر ہو گا۔ لہٰذا حیات انبیاء بعد وفات ثابت ہے
#ترجمہ_حدیث_دوم
"حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ رسول الله نے فرمایا مجھ پر جمعہ کے دن
درود زیادہ بھیجا کرو کیوں کہ وہ دن حاضر کیا گیا ہے۔ حاضر ہوتے ہیں ان میں فرشتے تحقیق کوئی مجھ پر درود نہیں بھیجتا مگر اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ درود سے فارغ ہو جائے ۔ کہا ابو درداء نے میں نے عرض کیا: کیا موت کے بعد بھی؟
آپ نے فرمایا کہ الله تعالی نے زمین پر حرام کر دیا کہ پیغمبروں کے جسموں کو کھائے ۔ اللہ کے نبی زندہ ہیں ۔ رزق دیئے جاتے ہیں۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے"
اس حدیث سے انبیاء کی حیات بحیات حقیقیہ دنیویہ بعد الوفات ثابت ہے اس میں حی کے ساتھ یرزق بطور تاکید ہے کیوں کہ رزق کی حاجت جسم کو ہوتی ہے۔
#ترجمہ_حدیث_سوم
اور ابو یعلیٰ اور بیہقی اور ابن مندہ نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء زندہ ہیں اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔
علامہ سمہودی نے وفا الوفاء میں اس حدیث کونقل کر کے لکھا ہے کہ روایت ابو یعلیٰ کے راوی ثقہ ہیں اور بیہقی نے اسے مع التصحیح نقل کیا ہے۔ اس کے شواہد سے صحیح مسلم میں روایت حضرت انس ہے۔ کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں (شب معراج میں) حضرت موسیٰ علیہ السلام سے گزرا وہ اپنی قبر میں نماز پڑھتے تھے اسی طرح حضور نے شب معراج میں بیت المقدس میں انبیاء کرام کی جماعت کرائی ۔ اور آسمانوں میں ان کو دیکھا۔ مسئلہ حیات انبیاء کی تائید صحیح مسلم کی روایت ابن عباس سے بھی ہوتی ہے۔ کہ رسول الله وادی ارزق سے گزرے فر مایا - یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
نے عرض کیا وادی ارزق ہے۔ حضور نے فرمایا میں گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ گھاٹی سے اترتے ہوئے لبیک کہہ رہے ہیں ۔ پھر ہرشا پہنچ کر حضور نے فر مایا - یہ کون سی گھاٹی ہے۔ صحابہ نے عرض کی کیا ۔ یہ وادی ہرشا ہے حضور نے فرمایا ۔ گویا میں یونس علیہ السلام کوسرخ بالوں والی اونٹنی پر دیکھتا ہوں کہ صوف کا جبہ پہنے ہوئے ہیں مہاع کھجور کی چھال کی رسی کی ہے۔
اولیاء کرام میں بہت سی مثالیں ایسے بزرگوں کی ملتی ہیں جو رسول اکرم کو حالات بیداری میں دیکھا کرتے تھے۔ بخوف طوالت یہاں ان کا حال درج نہیں کرتے علامہ جلال الدین سیوطی اپنے رسالہ تنویر الملک میں وہ احادیث و اقوال صلحاء نقل کرتے ہیں ۔ جو حالت خواب اور حالت بیداری ہر دو میں رسول اللہ کی رویت کے امکان پر دلالت کرتے ہیں۔ بعد ازاں یوں فرماتے ہیں کہ ان تمام احادیث و اقوال سے ثابت ہو گیا۔ کہ حضور رسول اکرم اپنے جسم اقدس اور روح شریف کے ساتھ زندہ ہیں اور وہ تصرف فر ماتے ہیں جہاں چاہتے ہیں۔ زمین و آسمان میں اور اسی ہیت سابقہ شریفہ پر ہیں کچھ تبدیلی اس میں نہیں ہوئی۔ آنکھوں سے ایسے ہی غائب ہیں جیسے فرشتے نظر نہیں آتے۔ حالانکہ فرشتے زندہ ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں ۔ جب اللہ تعالی ارادہ کرتا ہے کسی امتی پر کرامت اور احسان کا تو حجاب اٹھا دیتا ہے۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اصلی صورت میں کر لیتا ہے۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔ اور صرف مثال ہی کے دیکھنے پر منحصر کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ۔ امام بیہقی نے حیات انبیاء پر ایک رسالہ لکھا ہے۔ جو چاہے اس کا مطالعہ کرے۔
خلاصہ کلام یہ کہ سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم وفات شریف کے بعد بھی جسم اطہر کے ساتھ زنده ہیں ۔ بحیات حقیقیہ دنیویہ اور آپ کے تصرفات بدستور جاری ہیں ۔ اسی واسطے آپ کی امت میں تا قیامت قطب، غوث، ابدال، و اوتاد ہوتے رہیں گے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نےرسالہ سلوک اقرب السبل الی سيد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم میں جو خانخانان کی طرف لکھا ہے یوں فرمایا ہے:
دباده یا چند یں اختلافات و کثرت مذاہب که در علماء است. یک کسی را دریں مسئلہ خلافے نیست کہ آنحضرت بحقیقت حیات بے شانہ و توہم تاویل دائم باقی است۔ و بر اعمال امت حاضر و ناظر ومرطبان حقیقت راومتو جہان آنحضرت را مقیض و مربی است
ترجمہ:
علماء امت میں اس اس قدر اختلافات و کثرت مذاہب ہے۔ بایں ہمہ کسی ایک کو اس مسئلہ میں ذرا بھی اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شائبہ مجاز و توہم تاویل حیات حقیقیہ کے ساتھ دائم و باقی ہیں ۔ اور امت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں ۔ اور طالبان حقیقت( حقیقت کے طلب کرنے والے) کو اور متوسلان بارگاہ نبوت کوفیض پہنچانے والے اور ان کی تربیت فرمانے والے ہیں۔
حضرت شیخ نے بالکل درست لکھا ہے۔ کیوں کہ فتنہ ابن تیمیہ اس تحریر سے سینکڑوں سال پہلے فرو( ظاہر) ہو چکا تھا۔ اور شیطان کا سینگ ابھی نجد سے نکلا تھا۔ جس نے تعلیم تیمی کی سوتی بل کو جگایا اور بات بات پر مسلمانوں کو مشرک بتایا۔
باب پنجم ختم شد
بحمد اللہ تعالیٰ
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں